یہ چاند تارے
یہ چاند تارے ہیں کتنے پیارے کوئی تو دیکھے انہیں
یوں چاند کا چمکنا ، یوں تاروں کا ٹمٹما نہ
یہ چاند تاروں کا پورے آسمان کو سجانا
مصروف اوقات کب اجازت دیتے ہیں ان مناظر کو دیکھنے کی
اوپر والے نے یہ سب تیرے لیے ہی سجایا ہے اے انسان
کوئی حسرت سے دیکھتا ہے چاند کو
توکوئی محبوب سے تشبیح دیتا ہے چاند کو
کوئی اس کی روشنی میں باتیں کرتا ہے کسی سے
اور کوئی روتا ہے اسے دیکھ کر کسی کی یاد میں
کون جانے کون بستا ہے اس چاند پر
کس کو روشن کرتا ہے یہ رات بھر تارے
بچپن کی کہانیاں سچ ہیں اگر
شائد پریاں رہتی ہیں اس چاند پر
کامیابی
پانا چاہتے ہو اگر زندگی میں تم کامیابی
تو ہر کام کرو تم ابھی
ٹالنے کی عادت کو چھوڑ دو ہمیشہ کے لیے
بہانے ختم کرو اور سب ایک طرف رکھ دو
کچھ مہینے خود کو کرو ایسے غائب
کہ کئی کارنامے کرلو تم نام اپنے
اپنے دوست ، ٹیچر ، والدین خود بنو
خود کے اصول بناؤ اور عمل کرو سختی سے
تکلیف تو ہوتی ہے کانٹوں پر چلنے سے
پاؤ گے جب کامیابی تو بھول جاؤ گے سب
یقین کرو خود پر اتنا کہ آسمان بھی کانپ جاے
محنت کرو اتنی کہ قسمت بھی بول اٹھے کہ کامیابی حق ہے تیرا
کام میں اتنے مگن ہوجاؤ کہ خود کی بھی ہوش نہ رہے
اور دنیا ترس جاے تم سے بات کرنے کے لیے
لوگوں کی باتوں پر پاؤں رکھ کر اسے اپنا راستہ بناؤ
خود سے پیار کرو اتنا کہ کسی اور کو چاہنے کی چاہ نہ رہے
منزل بھی ملے گی اور کامیابی بھی اگر
ہر ایک سے مسکرا کر ملنے کی عادت تم اپنا لو
اچھے وقت کا انتظار نہ کرو
برے وقت کو ہی اچھا بنا لو
سیکھو اپنی غلطیوں سے اور خامیوں سے تم ہر روز
مگر ہر صبح تم نیا آغاز کرو
زندگی کو سمجھنا ہے تو ماضی کو دیکھو
لیکن اگر جینا ہے تو مستقبل کو دیکھو
آواز میں وہ لذت لو کہ دنیا دیوانی ہوجاے
اور کام ایسا کرو کہ یہ زمین بھی کانپ جاے
میری خوابوں کی دنیا
میری دنیا کے راستے ان دنیا والوں کے راستوں سے الگ ہیں
یہاں بسنے والے ہر انسان کے انداز الگ ہیں
میں اڑتے پرندوں سے باتیں کرتی ہوں
چاند تاروں کے ساتھ اپنا وقت گزارتی ہوں
میری خوابوں کی دنیا بہت بڑی نہیں لیکن
ہر خواب چن چن کر رکھتی ہوں
میں اگتے اور ڈوبتے سورج کو دیکھتی ہوں
قدرت کے نظاروں کو بہت قریب سے دیکھتی ہوں
یونہی ناز نہیں کرتا سارا زمانہ ہم پر
لے کر پھرتے ہیں ھم تو مٹھی میں آسمان
میں تو اپنی دنیا میں رہتی ہوں
جہاں خدا سے باتیں ہوتی ہیں
جہاں محبوب سے ملاقاتیں ہوتی ہیں
جہاں کوئی نہیں ہے رلانے والا
جہاں کوئی نہیں ہے ستانے والا
یہاں ہر کامیابی پر داد ملتی ہے
یہاں ہر خواہش کو سینے سے لگایا جاتا ہے
یہاں خوابوں کی قدر کی جاتی ہے
یہاں بس پیار ہی پیار ملتا ہے
یہ دنیا والے کیا جانیں میری دنیا کے راز
انہیں اتا ہے صرف باتیں بنانا
ہر موسم کو چکھتی ہوں ، ہر خواہش کو پورا کرتی ہوں ،
ہر خواب کو پورا کرتی ہوں میں تو بس اپنی دنیا میں رہتی ہوں
ایک سچی کہانی
چلو آؤ سناتی ہوں تمھیں ایک کہانی
چھوٹے سے شہر کے بڑے گھر میں رہتی تھی ایک رانی
نجانے کیا تھا اس کے من میں ہر دم تھا چلتا
کرنا وہ بہت کچھ چاہتی تھی دنیا کے لیے
بھٹکی تھی کئی بار وہ اپنے اس مقصد سے
یہ دنیا والوں کی باتیں سمجھ سے باہر تھیں اس کے
والدین کہتے تھے پڑھائی کرو اور نام بناؤ اس میں
دوست ، لوگ یہاں تک کے ٹیچرز بھی مذاق اڑاتے تھے اس کا
الجھ سی گئی تھی وہ دنیا کے جال میں
سمجھنے لگی تھی سب سے بیکار خود کو
بات سن کر اسکی ہنستے تھے سب لوگ
ٹھان لیا تھا پھر اسنے کر کے ہے اب کچھ دکھانا
اٹھی تھی وہ جب یہ سوچ کر تو حالات نے نیچے اسے گرایا
آگیا تھا ایک خلا زندگی میں اس کے
کوئی کہتا تھا پاگل تو کوئی دیوانہ کہتا تھا اسے
لیکن اسے بھی لوگوں کے منہہ پر تالا تھا لگانا
اسکول سے نکلی تو حالات بدل گئے تھے اسکے
جو سوچا تھا وہ پورا نہ ہو پایا تھا اس سے
آنسو بہاتی اور شکایتیں کرتی تھی وہ خدا سے
قدرت بھی خاموش تھی شائد امتحاں لے رہی تھی اس کا
وہ تھک کر چور ہوگئی لیکن امید کی کرن نہیں تھی کہیں
اندھیرے راستے تھے روشنی نہیں تھی کہیں
حوصلہ دیا پھر اسے دوستوں سے دوبارہ کھڑا ہونے کا
پیار ہونے لگا تھا اسے اپنی زندگی سے
مگر قدم ٹک نہ پاے راستے پر
وہ پھر سے گری چٹانوں سے ٹکرا کر
ہوتی کوئی عام لڑکی تو رک جاتی وہ وہاں لیکن
وہ دنیا کو بدلنا چاہتی تھی انگاروں پر چل کر
اٹھایا سر اسنے اور قدم بڑھاے اگے
پہاڑ تھے اس کی آنکھوں کے سامنے
خوں اتر آیا تھا نگاہوں میں اس کی
مخالفتوں کے بازار گرم تھے تب تک
بڑھی اگے تو کانٹے چبھے پاؤں پر
تیر چپ رہے تھے دل پر اپنوں کی باتوں کے
قسمت نے ایسا گرایا کہ خود کشی کا سوچ لیا تھا اس نے
پر نہیں اگے بڑھنا تھا اسے
بڑھی اگے تو منزل انتظار کر رہی تھی اس کا
آنکھوں میں آنسو تھے اور قدم لڑ کھڑا رہے تھے اس کے
یہ قسمت نے کیا کھیل کھیلا تھا اس سے
اب لوگ سنتے تھے اس کی ہر بات کو
وہ بھی خوش تھی زندگی سے اب تو
چوٹی سی عمر میں بہت دکھ سہے تھے اس نے
پر زندگی کو سمجھ گئی تھی اب وہ
اپنی مرضی کی زندگی کو جی رہی تھی وہ ہر روز
مگر ابھی بھی کرنا تھا کچھ بڑا اس نے
دنیا کی تاریخ میں نام لکھنا تھا اس نے
یہ کہانی نہیں حقیقیت ہے دوستو
وہ کوئی ور نہیں بلکے میں ہوں
اگر ٹھان لو تو مشکل کچھ نہیں ہوتا زندگی میں
اگرمان لو تو ہر ملتی ہے ہر جگہ جہان میں
نہ سنگ عرش نہ تکلیف تو کیا مزہ ہے جینے میں
بڑے بڑے طوفان تھم جاتے ہیں جب آگ لگی ہو سینے میں
زندگی
کیا ہے یہ زندگی سمجھ سے باہر ہے اب تک
لاکھوں خواہشیں دل میں جی رہے ہیں اب تکلیے
خوابوں کی نگری ہے یا منزل سامنے کھڑی ہے
کھیل تماشا ہے یا جینے کی دو گھڑی ہے
کتابوں سے سر پٹک کر بھٹک گئے ہیں شائد
کہیں ان تاریک راہوں میں کھو گئے ہیں شائد
کون جانے کیا کرنے آے ہیں ھم یہاں
دل لینے یا دینے ہیں ہیں ھم یہاں
ننھی آنکھوں میں حسرتیں ہیں بہت
کمی ہے یا کہیں زیادتی ہے بہت
کوئی پوچھتا ہے حال اور کوئی بچھاتا ہے جال
اور جس سے بھی کرو پیار وہی بن جاتا ہے وبال
سب کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں ہر پل
کبھی روتے ہیں ، کبھی ہنستے ہیں ،کیا نہیں کرتے ہر پل
جذبات میں آ کر زندگی کو بھول جاتے ہیں
کوئی ہمیں بھی بتاؤ جس سے پیار ہو وہ اتنا کیوں رلاتے ہیں
کوئی جزبے سے بھر پور اور کوئی زندہ لاش بن کر جیتا ہے
کوئی ہار کر جیتتا ہے اور کوئی جیت کر بھی ہار جاتا ہے
کوئی ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے ٹکڑوں میں
اور کوئی لاکھ ٹوٹنے کے بعد بھی کھڑا ہوجاتا ہے
ہر کوئی دیکھتا ہے اس زندگی کو الگ انداز سے
کوئی خوش ہو کر بھی خوش نہیں اور کوئی دکھ سہتے بھی ہنس دیتا ہے
کھل کر جیو زندگی
:
چاہتے ہو اگر اس زندگی کو کھل کر جینا
دل کی سننا اور آگے بڑھتے جانا
دنیا کو خوش کرنے میں وقت برباد نہ کرنا
خود کو چاہنا ، جی بھر کر پیار کرنا خود سے
قبول کرو اپنی ہر غلطی اور خامی کو بھی
لیکن خود کو اس کی سزا مت دینا
کوئی دور جاتا ہے زندگی سے تمہاری تو اسے جانے دینا
کسی کی راہ میں پتھر بن کر نہ بیٹھ جانا
اپنے دل کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے رکھنا
کوئی پیار دے تو اسے جی بھر کر پیار کرنا
موقع دے اگر قسمت تو سب خواب پورے کرنا
چاہے کچھ بھی ہو ہر آندھی اور طوفان کا سامنا کرنا
قدرت کے ہر فیصلے کو دل سے قبول کرنا
کوئی تلوار بھی رکھ دے گلے پر تو اسے بھی معاف کرنا
خود کو قابل بناؤ اتنا کہ تمھیں چھوڑنے والے پچھتائیں
خود پر اتنا کام کرو کہ تم سے ملنا لوگوں کا خواب بن جائے
دوستی کرلو ہر مصیبت سے ، دھوپ اور کانٹوں سے
نکلو اس ریس سے اور مقابلہ کرو خود سے
اپنی زندگی کو جنت بنانا ہے خود تم نے
کسی کو موقع نہ دو کہ کوئی دوزخ بنائے اسے ..

0 Comments